
مصری قاری احمد ابوالمعاطی فروری ۱۹۳۹ کو پیدا اور ۲۲ اکتبر ۲۰۱۱ کو وفات پاگئے تھے، وہ صوبہ «دقهلیه» شهر «بلقاس» کے گاوں «جوادیه» میں رہتے تھے۔
انتہائی کمر عمری میں انہوں نے قرآن مجید حفظ کرلیا اور صرف ۱۲ سال کی عمر میں بڑی محفلوں میں تلاوت کرتے تھے۔
شیخ ابوالمعاطی میں ریڈیو مصر سے تلاوت شروع کی مگر آنکھوں کی کم بینائی کی وجہ سے ٹیلی ویژن پر نہ آسکے۔ ان جیسے اور بھی نابینا قرآء تھے جنہوں نے اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف عدالت میں درخواست کی کہ انہیں بھی ٹیلی ویژن پر تلاوت کا موقع دیا جائے اور بلا آخر شیخ احمد به کو ٹیلی ویژن پر تلاوت کی اجازت مل گیی۔

قرآت کے ماہرین کے مطابق آواز کی پیچ، طولانی سانس اور بہترین طریقے سے تلاوت اس قاری کی صلاحیتوں میں شامل ہے۔
شیخ احمد ابوالمعاطی ۲۲ اکتبر ۲۰۱۱ کو فانی دنیا سے کوچ کرگئے.
سوره احزاب کی آخری آیات کی تلاوت وہ بھی بغیر کسی ساونڈ سسٹم کے قاہرہ کی مسجد امام حسین(ع) میں صبح سویرے کی گئی تھی جو حاضر ہے: